ہم سابھی خانماں برباد ملے گاکہاں
کہ چوٹ کھاتے جاتے اور مسکراتے جاتے
وہ اہلِ ستم اتنا بھی نہ سمجھے
زخم سیتے جاتے اور مسکراتے جاتے
کہاں دم ہے ستمگر کے ستم میں
درد سہتے جاتے اور مسکراتے جاتے
گھاٸل ہوکر ہم تو خاموش تھے
اور وہ مارتے جاتے اور چلاتے جاتے
کہاں دیکھا کسی نے ہم سا خودسر
دکھ اٹھاتے جاتے اور مسکراتے جاتے
🥀🍁🍂
ReplyDelete