Translate

Muskoraty jaty

 ہم سابھی خانماں برباد ملے گاکہاں

کہ چوٹ کھاتے جاتے اور مسکراتے جاتے

وہ اہلِ ستم اتنا بھی نہ سمجھے

زخم سیتے جاتے اور مسکراتے جاتے

کہاں دم ہے ستمگر کے ستم میں

درد سہتے جاتے اور مسکراتے جاتے

گھاٸل ہوکر ہم تو خاموش تھے

اور وہ مارتے جاتے اور چلاتے جاتے

کہاں دیکھا کسی نے ہم سا خودسر

دکھ اٹھاتے جاتے اور مسکراتے جاتے

**********************

1 comment:

Forms of life

   زندگی کے روپ کتنے، ہر گھڑی بدلتے رہے کبھی ہنستے پھول جیسے، کبھی آنسو ڈھلتے رہے کبھی دھوپ کی شدتوں میں جلایا ہمیں وقت نے کبھی چھاؤں بن کے ...

Contact Form

Name

Email *

Message *