اے پاکستانیو!!!!!!!!!
کئی خون کی ندیاں ، کئی کٹی لاشوں ، کئی لٹے پٹے خاندانوں ، کی قربانیوں سے بنا پاکستان
وہ بچے جو پیدا بھی نہ ہوئے تھے ، ماؤں کے پیٹ کاٹ کر نیزوں پر چڑھا دیئے گئے ، پھر بنا
پاکستان ، لاکھوں جوان لڑکیوں اور عورتوں کی
عزت تار تار ہوگئی، پھر بنا پاکستان ، کئی جوانوں کو خون میں نہلا دیا انہی کے،کئی
بوڑھوں کو کاٹ ڈالا، عورتوں کو رسوا و بے آبرو کر ڈالا ،لاکھوں لوگوں نے خود کو قربان کردیا اس کے نام پر آنے والی نسلوں کے مستقبل پر، ارے تب بنا پاکستان
ہزاروں ٹرینوں کے ذریعے ہجرت کرنے والے تلواروں سے
کاٹ دیئے گئے،کئی ٹرینیں پاکستان صرف لاشیں
لیکر رکیں ، ارے تب بنا پاکستان
ہاں تب بنا پاکستان
مگر!!!!!
صد افسوس آنے والی نسلوں نے ان تمام قربانیوں کو فراموش کردیا، بھلادیا
موجودہ پاکستان لہو لہو ہے ہر خطے سے
لہو رس رہا ہے ، انسانیت کب کی مرچکی
ہے حیوانیت اپنا ننگا ناچ، ناچ رہی ہے
پاکستان چیخ چیخ کر پکار رہا ہے کسی
عمر فاروق کو، مگر ،،،مگر وہ مائیں ہی کہاں
جو عمر فاروق سا جریح پیدا کرسکے
پکارتا ہے پاکستان!!!!!! محمد علی جناح کو
محمد بن قاسم کو،محمود غزنوی کو، ٹیپو سلطان کو مگر کوئی نہیں سنتا !!!؛؛؛
کیونکہ یہاں تو اکثریت ہے میر جعفر ، میر صادق جیسے لوگوں کی ،مفاد پرستوں کی
کون سنے گا پکار ،جو سنتا ہے وہ دار پر لٹکایا
جاتا ہے
پاکستان پکار رہا ہے کوئی ہے ،ارے کوئی ہے
جو سنے اس کی پکار
No comments:
Post a Comment