Translate

Land conservation

 🌱


نظم: زمین کا تحفظ


زمین ہماری ماں ہے پیاری،

سب سے خوبصورت سب سے نیاری۔


سبز درختوں کی ہے چادر،

پھولوں سے مہکی ہر اک فضا۔


دریا بہتے، چشمے گاتے،

پرندے خوشی کے گیت سناتے۔


ہم نے مگر یہ کیا کر ڈالا،

کچرا پھیلا، جنگل جلا ڈالا۔


دھواں بڑھا، آلودہ ہوا ہے،

بیمار اب یہ سارا جہاں ہے۔


آؤ مل کر عہد کریں ہم،

اس کو پھر سے صاف کریں ہم۔


درخت لگائیں، پانی بچائیں،

قدرت کی نعمت کو اپنائیں۔


یہی ہے ہم سب کی ذمہ داری،

زمین رہے گی تب ہی پیاری 🌍

شمائلہ خان

Give medicine to the air.

 ہوا کو دوا دو


ہوا کو دوا دو، یہ خاموش رو رہی ہے

دھواں کے بوجھ تلے سانس کھو رہی ہے


کبھی یہ مہکتی تھی پھولوں کی خوشبو سے

اب زہر آلود ہو کے سسک رہی ہے


درختوں کی چھاؤں میں پلتی تھی یہ کبھی

اب کٹتے جنگلوں پہ یہ سو رہی ہے


ذرا سوچو، یہ سانسیں بھی رک سکتی ہیں

اگر یہ ہوا یوں ہی رُک رہی ہے


آؤ مل کر اسے پھر سے زندہ کریں

ہر طرف سبز خوابوں کو روشن کریں


نہ جلائیں کچرا، نہ آلودہ کریں فضا

یہی زندگی کی اصل دعا ہے


ہوا کو دوا دو، یہ ہم سب کی امانت ہے

اسی سے ہر دل کی دھڑکن سلامت ہے 🌿

شمائلہ خان

A woman's sorrow

 **عورت کا دکھ**


وہ چپ سی رہتی ہے، کچھ کہتی نہیں

دل میں ہزار غم سہی، پر کہتی نہیں

آنکھوں میں خواب سجا کے بھی مسکراتی ہے

اپنے دکھوں کو خود ہی چھپاتی جاتی ہے


کبھی بیٹی، کبھی بہن کا روپ لیے

ہر رشتے میں خود کو ہی کھو دیتی ہے

اپنی خوشی کہیں پیچھے رہ جاتی ہے

دوسروں کے لیے جیتی چلی جاتی ہے


لفظوں میں بیان ہو نہ پائے اس کا درد

خاموشی میں چھپا ہے اس کا ہر ایک درد

چہرے پہ ہنسی، دل میں طوفان لیے

وہ زندگی کا ہر امتحان لیے


کبھی حالات سے لڑتی، کبھی ہار جاتی ہے

پھر بھی ہر بار سنبھل کر اٹھ جاتی ہے

یہی تو اس کی طاقت، یہی پہچان ہے

عورت ہی تو صبر کا دوسرا نام ہے ✨


شمائلہ خان

Forms of life

  


زندگی کے روپ کتنے، ہر گھڑی بدلتے رہے

کبھی ہنستے پھول جیسے، کبھی آنسو ڈھلتے رہے


کبھی دھوپ کی شدتوں میں جلایا ہمیں وقت نے

کبھی چھاؤں بن کے خوابوں کے نگر پلتے رہے


کبھی راہ میں کانٹے تھے، کبھی خوشبوؤں کا سفر

ہم مگر امید لے کر ہر قدم چلتے رہے


کبھی اپنوں کی محفل میں بھی تنہا ہم ہی تھے

کبھی اجنبی بھی آ کر زخم اپنے سلتے رہے


یہی درس دے گئی آخر ہمیں گردشِ حیات

جو بھی لمحے ملے ، شکر کرکےملتےرہے

  

شمائلہ خان 

The dream is dead.

 میں جاگ رہی ہوں مگر

میرے خواب گئے مر


آنکھوں میں نمی ٹھہری ہے

دل میں ہے کوئی ڈر


یادوں کی ہوا چلی تو

دل ہو گیا پھر تر


چاند بھی اکیلا سا ہے

تارے ہیں بے اثر


لوگوں کی اس بستی میں

ہر شخص ہوا بے خبر


دل ڈھونڈے وہی چہرہ

جو چھوڑ گیا یہ گھر


میں جاگ رہی ہوں مگر

میرے خواب گئے مر


شمائلہ خان

The love story remains.

 محبت کی داستان


لحاظ باقی ہے، مروت باقی ہے

زمانے کی ہر آزمائش کے باوجود

یہ آتش رفتہ میں چنگاریاں ہیں

کہ اب بھی دلوں میں انسیت باقی ہے


نہ چھوٹی راہیں، نہ ٹوٹی بستیاں

کہ اب بھی ملتا ہے پانی کنویں کو

نظر میں اجنبی پہ رحمت باقی ہے

لحاظ باقی ہے، مروت باقی ہے


کٹھن ہیں راہیں، گہنے ہیں بادل

مگر کسی در پہ دستک دینے والا

نہیں ہے تنہا، نہیں ہے بے سہارا

کہ ہر قدم پر کوئی دعوت باقی ہے


یہ بند دروازے، یہ اونچی دیواریں

نہیں ہیں فاصلے دل سے دل کے واسطے

کہ آنکھ میں آنسو، ہونٹ پہ تبسم

یہی تو انسانیت باقی ہے


لحاظ باقی ہے، مروت باقی ہے

یہی تو زندگی کا سہارا ہے

کسی کی آنکھ میں آنسو دیکھ کر

جو دل میں اُتر جائے پیارا ہے


نہ ڈھونڈو ستارے آسماں کے پار

یہیں ہے جنت، یہیں ہے آرزو

کہ اب بھی انسان میں انسانیت

لحاظ باقی ہے، مروت باقی ہے


شمائلہ خان

Land conservation

 🌱 نظم: زمین کا تحفظ زمین ہماری ماں ہے پیاری، سب سے خوبصورت سب سے نیاری۔ سبز درختوں کی ہے چادر، پھولوں سے مہکی ہر اک فضا۔ دریا بہتے، چشمے گ...

Contact Form

Name

Email *

Message *