Translate

Sahar e Yara

 اے شہر یاراں 

الوداع 

رخت سفر باندھا 

اور چل پڑے 

الوداع 

تیرے ساتھ گزارے 

ہوئے لمحات کو 

الوداع 

تمہارے لئے چھوڑے

اپنے سب فسانے

الوداع 

جاتے ہیں اٹھ کر 

اب تیرے آستانے سے 

الوداع

رخصت کی گھڑی ہے 

کرو مجھے !! 

الوداع 

آؤ! گلے لگ کر

تھوڑا روتے ہوئے 

الوداع!!!؛

شمائلہ خان 

11:00رات

جمعرات 

3-9-26

Intaazar

 **بہت دن گنوائے انتظار میں**


بہت دن گنوائے انتظار میں،

آؤ! آگے بڑھ کر دیکھ لیں۔

خواب جو دل میں پلتے رہے،

انہیں حقیقت میں ڈھلتے دیکھ لیں۔


رستے کٹھن ہوں، خوف بھی ہو،

ہمت کے دیپ مگر جلتے دیکھ لیں۔

کل کی فکر میں جو کھو گئے،

آج کو پھر سنبھلتے دیکھ لیں۔


وقت کسی کا رکتا نہیں،

قدم سے قدم ملتے دیکھ لیں۔

منزل خود آواز دے گی،

بس حوصلوں کو چلتے دیکھ لیں۔


مایوسی کے بادل چھٹ جائیں گے،

امید کے سورج نکلتے دیکھ لیں۔

بہت دن گنوائے انتظار میں،

آؤ! آگے بڑھ کر دیکھ لیں۔


شمائلہ خان

Land conservation

 🌱


نظم: زمین کا تحفظ


زمین ہماری ماں ہے پیاری،

سب سے خوبصورت سب سے نیاری۔


سبز درختوں کی ہے چادر،

پھولوں سے مہکی ہر اک فضا۔


دریا بہتے، چشمے گاتے،

پرندے خوشی کے گیت سناتے۔


ہم نے مگر یہ کیا کر ڈالا،

کچرا پھیلا، جنگل جلا ڈالا۔


دھواں بڑھا، آلودہ ہوا ہے،

بیمار اب یہ سارا جہاں ہے۔


آؤ مل کر عہد کریں ہم،

اس کو پھر سے صاف کریں ہم۔


درخت لگائیں، پانی بچائیں،

قدرت کی نعمت کو اپنائیں۔


یہی ہے ہم سب کی ذمہ داری،

زمین رہے گی تب ہی پیاری 🌍

شمائلہ خان

Give medicine to the air.

 ہوا کو دوا دو


ہوا کو دوا دو، یہ خاموش رو رہی ہے

دھواں کے بوجھ تلے سانس کھو رہی ہے


کبھی یہ مہکتی تھی پھولوں کی خوشبو سے

اب زہر آلود ہو کے سسک رہی ہے


درختوں کی چھاؤں میں پلتی تھی یہ کبھی

اب کٹتے جنگلوں پہ یہ سو رہی ہے


ذرا سوچو، یہ سانسیں بھی رک سکتی ہیں

اگر یہ ہوا یوں ہی رُک رہی ہے


آؤ مل کر اسے پھر سے زندہ کریں

ہر طرف سبز خوابوں کو روشن کریں


نہ جلائیں کچرا، نہ آلودہ کریں فضا

یہی زندگی کی اصل دعا ہے


ہوا کو دوا دو، یہ ہم سب کی امانت ہے

اسی سے ہر دل کی دھڑکن سلامت ہے 🌿

شمائلہ خان

A woman's sorrow

 **عورت کا دکھ**


وہ چپ سی رہتی ہے، کچھ کہتی نہیں

دل میں ہزار غم سہی، پر کہتی نہیں

آنکھوں میں خواب سجا کے بھی مسکراتی ہے

اپنے دکھوں کو خود ہی چھپاتی جاتی ہے


کبھی بیٹی، کبھی بہن کا روپ لیے

ہر رشتے میں خود کو ہی کھو دیتی ہے

اپنی خوشی کہیں پیچھے رہ جاتی ہے

دوسروں کے لیے جیتی چلی جاتی ہے


لفظوں میں بیان ہو نہ پائے اس کا درد

خاموشی میں چھپا ہے اس کا ہر ایک درد

چہرے پہ ہنسی، دل میں طوفان لیے

وہ زندگی کا ہر امتحان لیے


کبھی حالات سے لڑتی، کبھی ہار جاتی ہے

پھر بھی ہر بار سنبھل کر اٹھ جاتی ہے

یہی تو اس کی طاقت، یہی پہچان ہے

عورت ہی تو صبر کا دوسرا نام ہے ✨


شمائلہ خان

Forms of life

  


زندگی کے روپ کتنے، ہر گھڑی بدلتے رہے

کبھی ہنستے پھول جیسے، کبھی آنسو ڈھلتے رہے


کبھی دھوپ کی شدتوں میں جلایا ہمیں وقت نے

کبھی چھاؤں بن کے خوابوں کے نگر پلتے رہے


کبھی راہ میں کانٹے تھے، کبھی خوشبوؤں کا سفر

ہم مگر امید لے کر ہر قدم چلتے رہے


کبھی اپنوں کی محفل میں بھی تنہا ہم ہی تھے

کبھی اجنبی بھی آ کر زخم اپنے سلتے رہے


یہی درس دے گئی آخر ہمیں گردشِ حیات

جو بھی لمحے ملے ، شکر کرکےملتےرہے

  

شمائلہ خان 

Sahar e Yara

 اے شہر یاراں  الوداع  رخت سفر باندھا  اور چل پڑے  الوداع  تیرے ساتھ گزارے  ہوئے لمحات کو  الوداع  تمہارے لئے چھوڑے اپنے سب فسانے الوداع  جا...

Contact Form

Name

Email *

Message *