Translate

Forms of life

  


زندگی کے روپ کتنے، ہر گھڑی بدلتے رہے

کبھی ہنستے پھول جیسے، کبھی آنسو ڈھلتے رہے


کبھی دھوپ کی شدتوں میں جلایا ہمیں وقت نے

کبھی چھاؤں بن کے خوابوں کے نگر پلتے رہے


کبھی راہ میں کانٹے تھے، کبھی خوشبوؤں کا سفر

ہم مگر امید لے کر ہر قدم چلتے رہے


کبھی اپنوں کی محفل میں بھی تنہا ہم ہی تھے

کبھی اجنبی بھی آ کر زخم اپنے سلتے رہے


یہی درس دے گئی آخر ہمیں گردشِ حیات

جو بھی لمحے ملے ، شکر کرکےملتےرہے

  

شمائلہ خان 

No comments:

Post a Comment

Sahar e Yara

 اے شہر یاراں  الوداع  رخت سفر باندھا  اور چل پڑے  الوداع  تیرے ساتھ گزارے  ہوئے لمحات کو  الوداع  تمہارے لئے چھوڑے اپنے سب فسانے الوداع  جا...

Contact Form

Name

Email *

Message *