Translate

Hazrat Imam Hussain

 حضرت امام حسین رضی اللّٰہ عنہٗ کے ایثار کا نظریہ کیا تھا؟حضرت امام حسین رضی اللّٰہ عنہٗ چاہتے تو خود کو اوراپنے عیال کو یزید اور اس کی فوج سے محفوظ رکھ سکتے تھے مگر اس کے لئے انہیں اپنے آپ کواس ارادے سے روکے رکھنا تھا جو وہ لیکر آئے تھےکیا تھا وہ مقصد ؟ جو آپ کوفیوں کے بلانے پر ہر خطرے سے ٹکرا گئےوہ مقصد تھا ! حق اور باطل کے درمیان تاقیامت ایک لکیر کھینچ دینا،کہ پھر کوئی یزید یہ جرات نہ کرسکے کہ اپنے فائدے کے لئے دین اسلام (دین برحق) کی شریعت میں تبدیلی کر سکے،یزید کو امام عالی مقام سے یہی تو خطرہ لاحق تھا کہ اگر کوفیوں نے امام حسین کے ہاتھ بیعت کرلی تو اس کی حکومت کا تختہ الٹ جائے گا۔ اس نے اپنی حکومت قائم رکھنے کے لئے خانوادہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر ظلم کے پہاڑ توڑے ،اور ایک ایک کر کے شہید کردیالیکن وہ جو لکیر امام حسین اپنے خون سے کھینچ گئے ہیں ،وہ لاکھ کوشش پر بھی نہ مٹا سکا خود مٹ گیا مگر ،اس لکیر کو جو مولا حسین نے اپنے گھرانے کے خون سے کھینچا نہ مٹاسکا اور تاقیامت کوئی اسے نہ مٹا سکے گا۔یہی مقصد تھا جو امام عالی مقام کو مدینہ منورہ سے کربلا تک لیکر آیا،سجدۂ آخر کیا پیغام دیتا ہے؟مولا کا سجدۂ آخر یہ پیغام ہے کہ حق اور سچ کیلئے ڈٹ جاؤ انجام کی پرواہ کے بغیر ،یہی کیا امام نے گھر چھوڑا ،پردیس میں فقط اک کوفہ کے لوگوں کے بلاوے پر،جب امام کربلا پہنچے تو راستے میں ہی خبر ہوگئی کہ کوفہ والوں نے بلا کر دھوکہ دیا ہے ،کوفہ والوں نے بلایا تھا کہ ہم آپ کے ہاتھوں بیعت کرینگے لیکن جب امام حسین رضی اللّٰہ عنہٗ پہنچے تو کوفہ والے مکر گئے،وادی نینواہ میں تنہا چھوڑ دیا ،مگر امام حسین نے کہا یہ تو بلاکر پیچھے ہٹ گئے مگر!! میں ہرگز باطل سے ہار نہیں مانوں گا ۔آپ کا سجدۂ آخر یہ پیغام ہے کہ!!! وعدے کی پاسداری کرو ،تم پر جو بھروسہ کیاگیا اس پر کھرے اترو،اس کیلئے چاہے تمہیں خون کی ندی پار کرنی پڑے، بچےکٹانیں پڑیں،خاندان لٹانا پڑے ،حضرت حسین رضی اللّٰہ عنہٗ نے رب کی رضا پر لبیک کہا اور اپنا سر باطل کے آگے جھکانے کے بجائے !! اک سجدہ والہانہ ادا کیا اور نثار ہوگئے۔اناللّٰہ وانا الیہ راجعون

No comments:

Post a Comment

Forms of life

   زندگی کے روپ کتنے، ہر گھڑی بدلتے رہے کبھی ہنستے پھول جیسے، کبھی آنسو ڈھلتے رہے کبھی دھوپ کی شدتوں میں جلایا ہمیں وقت نے کبھی چھاؤں بن کے ...

Contact Form

Name

Email *

Message *