Translate

Socha aur kr dikhaya

 اک لڑکی تھی شرماٸی سی گھبراٸی سی

گھر سے نکلی تھی

کچھ بننے کو کچھ کر دکھانے کو

کچھ لوگ ملے 

انجانے سے کچھ بیگانے سے

وہ چلتی گٸی آگے بڑھتی گٸی

گھر بھی دیکھا اپنے بچے بھی

ھمت تھی بہت اور شوق اور لگن

ھر طوفان سے ٹکراٸی وہ 

ھر مشکل سے  ٹکراٸی وہ

نہ اپنوں کی نہ غیروں کی

وہ تھی سب کے لہجوں میں

پھر وہ وقت آیا جب سب نے دیکھا 

اک ننھے پودے کو پروان چڑھایا 

اس کو اپنا سب کچھ دے کر

اس پر اپنا مان لٹایا

وہ وقت بھی آیا جب وہ اس کی پہچان بنا 

ھر اک زبان پر 

ھر اک دل میں

اس کا ھی نام تھا

وہ سب جو اس کیا

پھل اس کا آخر پا ھی لیا

وہ پودا جس کی آبیاری کی تھی اک تناور درخت وہ بن گیا

پھر نہ جانے کیسی ھوا چلی 

چمن کا مالی دور ھوا

روٹھ گیا اور دور گیا

تھی اس کے لہجے میں سچاٸی جو راھ اس کو دکھلاٸی

وہ اب بھی شمع کی نگہباں ھے

ھر جانب اس کا چرچہ

ھے

پر !

اس کا وہ شجر 

آج بھی اس کے بنا

ادھورا ھے

وہ اس کے جانے کے بعد

آج تک اس کی راھ دیکھتا ھے

کچھ ناقدروں  نے 

نے دور کیا تھا

اس بھول کی سزا 

شجر کو ملی

وہ پھلدار ڈالی 

پھل دینا بھولتی گٸی

بور لگتے تھے پر جھڑتے تھے

کیڑے بھی اس میں لگ گٸے

وہ شجر آج بہت تنہا ھے

اے مالی

تجھے ڈھونڈتا ھے

وہ باغ جو تو نے سجایا تھا

تیرے لمس کو کھوجتا ھے

اس پرواٸی کی کھوج میں ھے

جو شجر سے اس کا مالی ملا دے

اے مالی

گر تو سنے سدا 

اس تنہا شجر کی

تو پلٹ آ

گر تو سنے تو پلٹ آ

گر ممکن ھے تو

بکھرے تنہا شجر کے

خشک پتوں کو 

سمیٹ لے اپنی بانہوں میں

چوم لے  ان سوکھی ڈالیوں کو

محبت کا لمس اس جھکے تنے پر

کاش کے محسوس ھو

محسوس ھو کے تم ھو

میرے ھمنوا 

میرے حضور

تم ھو 

اب بھی ھر جگہ ھر گوشہ میں

تم ھو

اے میرے مسیحا

اے میرے راحت رساں

🌳🌱🌹🌷

No comments:

Post a Comment

Forms of life

   زندگی کے روپ کتنے، ہر گھڑی بدلتے رہے کبھی ہنستے پھول جیسے، کبھی آنسو ڈھلتے رہے کبھی دھوپ کی شدتوں میں جلایا ہمیں وقت نے کبھی چھاؤں بن کے ...

Contact Form

Name

Email *

Message *