ہوا کو دوا دو
ہوا کو دوا دو، یہ خاموش رو رہی ہے
دھواں کے بوجھ تلے سانس کھو رہی ہے
کبھی یہ مہکتی تھی پھولوں کی خوشبو سے
اب زہر آلود ہو کے سسک رہی ہے
درختوں کی چھاؤں میں پلتی تھی یہ کبھی
اب کٹتے جنگلوں پہ یہ سو رہی ہے
ذرا سوچو، یہ سانسیں بھی رک سکتی ہیں
اگر یہ ہوا یوں ہی رُک رہی ہے
آؤ مل کر اسے پھر سے زندہ کریں
ہر طرف سبز خوابوں کو روشن کریں
نہ جلائیں کچرا، نہ آلودہ کریں فضا
یہی زندگی کی اصل دعا ہے
ہوا کو دوا دو، یہ ہم سب کی امانت ہے
اسی سے ہر دل کی دھڑکن سلامت ہے 🌿
شمائلہ خان
No comments:
Post a Comment