محبت آ س ہوتی ہے
اک امید ہوتی ہے
درد کے ساگر میں
ساحل پہ رکی ناؤ ہوتی ہے
دشت میں بھٹکتے مسافر
کیلۓ نخلستان ہوتی ہے
بنجاروں کی بستی
منزل کی تلاش میں
بھٹکنے والے کی راستے
کا نشان ہوتی ہے
بَن میں بھٹکتے کیلئے
اک راہ ہوتی ہے
کسی بڑھیا کی کٹیا
کے جیسے ہوتی ہے
یہ وہ پنچھی ہے جو
قفس لے کر پرواز کرتا ہے
کبھی ابھرتا ہے
کبھی ڈوبتا ہے
قطبین ستارے
کے جیسے
کبھی قاصد
کبھی صیاد
بنکر
بنجر زمین پر
پھول کھلنے کی آ س
ریگستان میں نخلستان
کی تلاش
تیرے ❤️ میں دبی
چنگاری کی راکھ
میری آ نکھوں کے
سوتوں کا پانی
**********************