زندگی تیری اداؤں پہ بہت پیار آیا،
کبھی طفل، کبھی خُردند کی صورت تجھ کو پایا۔
چمن میں پھول سی مہکی تو، ہوا دل بہل گیا،
رُت بدلی تو خزاں کے اندھیروں میں کھو گیا۔
نظر آتی ہے جب تُو، گُھنگھرو سی چھنک اٹھتی ہے،
مِرے خوابوں کی رُت پل میں بہاروں میں بدل جاتی ہے۔
کبھی ننھی سی کلی، کبھی شگفتہ گُل ہوئی،
تُو زمانے کی رَواں دھار میں ایک اَفسانہ ہوئی۔
جو سہارا دیا تُو نے، وہ نہیں ملتا کہیں،
تُو ہی اک عمر کا ساتھی، تُو ہی اک عمر کی راہیں۔
کبھی دُکھ دے کے رُلا دیا، کبھی ہنسا کے بُھلا دیا۔
No comments:
Post a Comment