**اندر کا آدمی**
**(بغاوت کی آواز)**
کھول دے یہ کھڑکی!
شیشے پہ لگے ہیں جو غبار کے پردے
اُڑا دے پھینک —
*میرے اندر کا آدمی*
**آگ اُگل رہا ہے!**
یہ زنجیریں جو تُو نے
خود ساختہ پہنا رکھی ہیں
کُھنک سے نہیں، *دھماکے* سے ٹوٹتی ہیں!
میں نے سنا ہے:
*"خاموشی بھی گناہ ہوتی ہے جب ظلم سامنے ہو"*
سو آج —
**چپّی توڑ دوں گا!**
کہتے ہو: *"رسمِ زمانہ ہے یہ سب"*؟
کہتے ہو: *"سر جھکا کے گزارا کرو"*؟
میری رگوں میں دوڑتی ہے
**وہ آگ جو تاریخ کے ظالم کو جلا دیتی ہے** —
میں نہیں مانتا!
میں نہیں جھکتا!
میرے سینے میں دبے ہوئے سوال
اب *خنجر* بن گئے ہیں —
اُٹھا کے دیکھ!
ہر ایک کا نوکدار سرا
**نظامِ جُفا کی آنکھ میں اترے گا!**
دیکھ رہا ہوں میں:
تمہارے خوشنما جھوٹ
تمہارے سُپرے ہوئے زہر
تمہارے *"مقدس"* بندھن!
میرا اندر کا آدمی کہتا ہے:
*"پجاریو! اپنے جھوٹے دیوتا توڑ دو —*
**میں خود ہی اپنا خدا ہوں!"**
شمائلہ خان
No comments:
Post a Comment