ملگجی سی اداسی ہے
تو نہیں پر تیری کمی باقی ہے
من اندر ویرانی ہے اک میں اور میری کہانی ہے
اک راہ ہے کچھ اندیکھی
اور یہ دنیا جو بڑی سیانی ہے
کچھ اور بھی ہیں باتیں مگرکون باقی رہتا ہے اپنا
یہ گتھی ابھی سلجھانی ہے
کسی نئے زخم کی ہے آہٹ
شمائلہ اسکی تیاری بھی کرنی ہے
یہ چوٹیں ابھی کھانی ہے۔