سنو تم بدگماں نہ ہو
میں موسم کی لپیٹ میں
ذرا مصروف سا ہوں
ذرا بہار آلینے دو
کچھ پھول کھلنے دو
پھر ان پھولوں سے
تیری زلفیں سنوارنے کیلئے
کچھ پھول اکھٹا کرنے ہیں
ملائم سی کلائی کیلئے
بیلا اور موتیا چننے ہیں
میری مانو!!!!!!!!
تھوڑا ٹہرجاؤ
دل کو سمجھاؤ
نہ ایسی بد گمانیاں رکھے
میں تیری آنکھوں کا
حسین گلاب ہوں جاناں
مجھے تم نرم بوندوں میں
جب وہ گالوں کو چھوتی ہیں
محسوس تو کرو
دیکھو میری جاں
میں تیرے آنچل سے لپٹا
ہوا کا جھونکا ہوں جاناں
مجھے سوچو تم جاناں
میں تمہارا
ہی ہوں جاناں
شمائلہ خان