یہ سال بھی گزر جائے گا
یہ سال جا رہا ہے
نیا سال آرہا ہے
پہلے بھی گزر گئے
یہ بھی گزر جائے گا
آنے والا نیا سال
کچھ نیا لے آئے گا
یہ جو جارہا ہے
جو نا دے سکا تھا
آنے والا نیا سال
کچھ نا کچھ دے
تو دے گا
ہم کیا کھو رہے ہیں
ہم کیا پارہے ہیں
کیا لے گیا ہے یہ
کیا دے گیا ہے یہ
بس وقت بھاگتے بھاگتے
لمحہ ، پل ، باتیں ، یادیں
سمیٹے لے رہا ہے
سال جا رہا ہے
سال آرہا ہے
تو کیا کھو رہا ہے
میں کیا کھو رہا ہوں
وہ کیا لے گیا
وہ کیا دے گیا
بس سفر اپنا
کرکے مکمل
وہ مسافر تھا
جا رہا ہے