غزل
بڑے آب و تاب سے چمکا مرا سورج—اے شام! نظر ذرا دھیرج
غروب ہوا جاتا ہوں، دل کو دے کوئی خبر ذرا دھیرج
دنوں کی تپش باقی ہے، سانسوں میں ابھی اثر ذرا دھیرج
مہکتی ہوئی شاموں تک کر لے مرا بھی سفر ذرا دھیرج
یہ رنگِ افق ٹھنڈا ہو، پھر بات کریں گے اور
ابھی تو بدلتا ہے منظر، رکھ اے شام گزر ذرا دھیرج
کبھی تو ٹھہر جا لمحہ، دھیرے سے اترنے دے
ہنوز افق پر باقی ہے چاندیِ قمر ذرا دھیرج
نہ یوں ہی بہا دے پل کو، مت کر دلوں میں شرر ذرا دھیرج
میں دن کی حرارت لایا، تو شب کی ہوا— ہنر ذرا دھیرج
کہا تھا کرم سے مجھ کو ایک نفس آرام
میں ڈوب تو جاؤں گا، پر دے مجھے خبر ذرا دھیرج
ابھی تو مہک باقی ہے سانسوں میں مرا اثر ذرا دھیرج
نہ توڑ کلیاں جلدی سے، اے بادِ خزاں— شجر ذرا دھیرج
افق پہ ابھی ٹھہری ہوئی ہے کرنِ سحر ذرا دھیرج
نظر کو سمیٹوں بھی تو لینے دے مرا بصر ذرا دھیرج
تمھاری تندیِ رفتار سے سہما ہوا یہ پل— گزر ذرا دھیرج
ہوا کی تیز چالوں میں چھپے ہیں کئی خطر ذرا دھیرج
ہنوز دلِ مضطر میں ہے خوابوں کی بھی خبر ذرا دھیرج
سنبھال لوں اک اک لمحہ— دے میری بھی نظر ذرا دھیرج
چراغِ افق بجھنے سے پہلے دمک لے اے قمر ذرا دھیرج
نہ چھیڑ چنگاریوں کو ابھی، دل میں پڑا شرر ذرا دھیرج
سکھاؤں گا شام تجھ کو ٹھہرنے کا بھی ہنر ذرا دھیرج
پسِ افقِ جاناں ابھی باقی ہے سفر ذرا دھیرج