**عورت کا دکھ**
وہ چپ سی رہتی ہے، کچھ کہتی نہیں
دل میں ہزار غم سہی، پر کہتی نہیں
آنکھوں میں خواب سجا کے بھی مسکراتی ہے
اپنے دکھوں کو خود ہی چھپاتی جاتی ہے
کبھی بیٹی، کبھی بہن کا روپ لیے
ہر رشتے میں خود کو ہی کھو دیتی ہے
اپنی خوشی کہیں پیچھے رہ جاتی ہے
دوسروں کے لیے جیتی چلی جاتی ہے
لفظوں میں بیان ہو نہ پائے اس کا درد
خاموشی میں چھپا ہے اس کا ہر ایک درد
چہرے پہ ہنسی، دل میں طوفان لیے
وہ زندگی کا ہر امتحان لیے
کبھی حالات سے لڑتی، کبھی ہار جاتی ہے
پھر بھی ہر بار سنبھل کر اٹھ جاتی ہے
یہی تو اس کی طاقت، یہی پہچان ہے
عورت ہی تو صبر کا دوسرا نام ہے ✨
شمائلہ خان
No comments:
Post a Comment