اس ھاتھ سے میرا ھاتھ
چھوٹا کب تھا
اس کا اور میرا ساتھ
ٹوٹا کب تھا
تقدیر کی آندھی نے
اجاڑا میرا آشیاں
ورنہ
نصیبوں سے تو ٹکرانا کیسا
جو حقیقت ھے اسے جھٹلانا کیسا
اور اگر وہ روٹھا بھی
تو پھر اسے منانا کیسا
بچھڑے تو پھر
نہ مل پاٸے ہم
جو گزر گیا اسے
یاد دلانا کیسا
**********************
No comments:
Post a Comment