جب میں ہسپتال میں اپنی آخری سانسیں لے رہا ہوں تو اچانک سے میرے فون پہ کال آئے اور کال اٹینڈ کر کے جب میرے کان کے ساتھ لگایا جائے تو آگے سے وہ بس اتنا کہے کہ "سنو میں تم سے۔۔۔۔۔" اور ساتھ ہی میری سانسیں ٹوٹ جائیں پھر جب وہ کال پر مسلسل ہیلو کہے تو کوئی اسے اتنا کہہ کر کال منقطع کر دے کہ
"Sorry, he is no more"
اور پھر اسے میری قبر تب جا کے ملے جب اس کے سر کے بال سفید ہو چکے ہوں، کمر جھک گئی ہو، آنکھیں کمزور ہو گئی ہوں اور ہاتھ میں سہارے کے لئے ایک لاٹھی پکڑ رکھی ہو پھر وہ میری قبر پر اپنی ادھوری بات پوری کرے کہ "سنو میں تم سے اب دیوانگی کی حد تک محبت کرتی ہوں، عشق کرتی ہوں، مجھے معاف کر دو میں نے تمہاری محبت کی قدر نہیں کی" اور میں خاموشی کی زنجیروں میں قید اسے جواب تک نہ دے سکوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
🙃💔
No comments:
Post a Comment