درد اڑانے کی عادت سی ہوگئی
روتے ہوئے ہنسنے کی عادت سی ہوگئی
آنسوؤں کو پی جانے کا یہ کرب
سہہ کر مسکرانے کی عادت سی ہوگئی
غم پیتے رہے ہم امرت سمجھکر
درد پینے کی عادت سی ہوگئی
ٹیس چھپانے کی عادت سی ہوگئی
انگار پہ تپ کر ہوگئے کندن!!!
ہر حال میں جینے کی عادت سی ہوگئی
درد بڑھتا گیا کوئی شکوہ نہیں
خود کو بہلانے کی عادت سی ہوگئی
مرمرکر پھر جی اٹھنے کی ادا
اس دل دیوانے کی عادت سی ہوگئی
بےجان بےسکت اس روح کو لئے
قہقہے بکھیرنے کی عادت سی ہوگئی
ڈوبتے دل مسکراہٹ لبوں پر سجائے
گیت گنگنانے کی عادت سی ہوگئی
زندگی ہمیں سدا آزماتی ہی رہی
اورہمیں اسے چڑانے کی عادت سی ہوگئی
Bht umda shumaila jee
ReplyDeleteBht umda
ReplyDeletesubhanallah
ReplyDelete