جوزندگی ہار جاؤں
تو!!!!!
مجھے معاف کردینا
میں کیا کہوں!
کیا بیان کروں!
مجھے اس جرم
کی ملی سزا
وہ جو میں نے!!
کبھی کیا نہیں
یہ عقدہ کبھی
کھلاہی نہیں
یہ راز سدا!!!
راز ہی رہا
جو سزا ملی
تو اس طرح!!!
ناجان نکلی اور!!!
نا ہی سانس لی!!
میرے لفظوں سے
درد جھلکنے لگا!!!
میری خاموشیاں بھی!!
آنسو بہانے لگیں؛
میں چپ رہی!!!
نا کچھ کہہ سکی؛
جو سائباں ملے!!!
وہ تھے بے امان؛؛
اورجودامان ملے!!
وہ سب بدگمان؛؛؛
جو روح ملی !!!!
وہ زخمی تھی بہت؛
اور جو دل ملا !!!
وہ بجھا بجھا!!!
اور جو لہجہ ملا؛؛
وہ بڑا کاٹ دار؛
جو زبان ملی!!!!
وہ ہے سلی ہوئی؛!
میرا ماجرا نالکھاگیا
اور نا کبھی بیاں ہوا
وہ قلم کبھی ملا نہیں
وہ ورق کبھی بناہی نہیں
میری کبھی کسی نے؛
سنی ہی نہیں!!!!!!!
ہر کوئی رہا مصروف بہت،
یہ بات سدا دبی رہی
کہ خطا کب کہاں
کس سے ہوئی!!!!!!
نامیں کہہ سکی
نا کوئی سن سکا
No comments:
Post a Comment