نہ اتنا ضبط کیا کر
فرشتے بھی روتے ہیں
اور میری جاں !!!
جب ہی تو اتنے۔
سیلاب آتے ہیں
معاملہ اتنا کٹھن نہیں
مگر تیرا جذب
دیکھ کر تو
میرا دل لرز جاتا ہے
بھاگتے بھاگتے جس سے
پڑے ہیں پیروں میں آبلے
وہی لفظ بار بار کیوں
میرے سامنے آجاتا ہے
نڈھال وجود، ساکت آنکھیں
اتنی خاموشی سے تو
عرش بھی لرز جاتا ہے
اے خدا !!!!!!
اسے آسودگی عطا کردے
اس کی حالت پر تو
میرا وجود کانپ جاتا ہے
شمائلہ خان
No comments:
Post a Comment