Translate

December will be gone

 دسمبر گزرا جاتاہے


کچھ یادیں

کچھ باتیں 

کچھ خواب

ادھورے

کچھ بیلی

سنگ اپنے

تو لئے چلا

تو پھر آئے گا

کچھ نا کچھ

لے جانے کو،

کچھ ٹوٹے پھوٹے

سپنے ، پرانے زخم

کچھ درد سے بھرے

لمحات ،جذبات

لیتا جائے گا،

ان کے سنگ

میرے خیال ،

میں بھی کسک

چھوڑ جائیگا

کچھ نقش بھی

رہ جائیں گے،

کچھ بکھری پڑی

یادوں کے ،

 بھولے وعدوں کے

راہوں کے، راتوں کے

جو بھول گئے،

جو یاد نہیں،

کچھ بھولے بسرے

کچھ ادھورے ادھورے

دسمبر تو چلا جائے گا

اور ،،!!!!

پھر لوٹ کے آئے گا


شمائلہ خان

2 comments:

Forms of life

   زندگی کے روپ کتنے، ہر گھڑی بدلتے رہے کبھی ہنستے پھول جیسے، کبھی آنسو ڈھلتے رہے کبھی دھوپ کی شدتوں میں جلایا ہمیں وقت نے کبھی چھاؤں بن کے ...

Contact Form

Name

Email *

Message *