دسمبر میں
موسم بڑا خاموش
رہتا ہے
ہر جانب اک
افسردہ سا ماحول
سجا رہتا ہے
میں اکثر اسے
کھوجتی ہوئی
کہیں دور نکل جاتی ہوں
سارے خیال،
سارے احساس
ساتھ لیکر اپنے
اس نگر کی
پگڈنڈی پر
چلتی چلی جاتی ہوں
دھندلا سماں
ملگجی شام
بنا پتوں کے پیڑ
سب مل بھی
اسے ڈھونڈ نہیں پاتے
No comments:
Post a Comment