Translate

A wounded soul

 وقت کے کاری وار

لگے روح پر 

تھے وہ گھاؤ بڑے

اور جو لگے دل پر

وہ تھے داؤ بڑے

سہنا تھا جنہیں ذرا مشکل

جھیلے وہ سب داؤ مگر

ہائے رے پر رہ نا سکے

جو تیر گڑے کلیجے پر

چھلنی چھلنی جگر ہوا

کھینچا جو زخموں سے تیر

تو کوئی نا شور ہوا

آھ بھری ، فریاد کی

لہو چھلکا آنکھوں سے 

پھر بھی لب چپ رہے

پنجرہ توڑے روح چلی

میت اٹھی تھی دھوم سے

لئے چلے حوالے خاک کے کرنے

خاک ملا کر چل دیئے خاک میں

بھولی بسری یادیں بنے ہوئے 

رہ جائیں گے بس جگ میں


شمائلہ خان

It will be evening

 ناجانے کب زندگی کی شام ہو جائے 


پہنچنے سے پہلے تیرے منزل تمام ہو جائے


بڑی عجلت برتی چھوڑ دیا تھا گھر 


لوٹ جانے کا کوئی اہتمام ہو جائے


 اس نے کہا ،نا گوارا مجھے اب

ساتھ چلنا


 اس سفر کا اب یہیں  اختتام ہوجائے


کیا غیر کا در آباد چھوڑ کر اس نے


 کہیں ادھر بھی یہی نا انجام ہو جائے 


وہ چاہے بھی تو کچھ نا کر پائے


ایسا جو کوئی کارہائے سر انجام

 ہو جائے 

شمائلہ خان

Forms of life

   زندگی کے روپ کتنے، ہر گھڑی بدلتے رہے کبھی ہنستے پھول جیسے، کبھی آنسو ڈھلتے رہے کبھی دھوپ کی شدتوں میں جلایا ہمیں وقت نے کبھی چھاؤں بن کے ...

Contact Form

Name

Email *

Message *