ناجانے کب زندگی کی شام ہو جائے
پہنچنے سے پہلے تیرے منزل تمام ہو جائے
بڑی عجلت برتی چھوڑ دیا تھا گھر
لوٹ جانے کا کوئی اہتمام ہو جائے
اس نے کہا ،نا گوارا مجھے اب
ساتھ چلنا
اس سفر کا اب یہیں اختتام ہوجائے
کیا غیر کا در آباد چھوڑ کر اس نے
کہیں ادھر بھی یہی نا انجام ہو جائے
وہ چاہے بھی تو کچھ نا کر پائے
ایسا جو کوئی کارہائے سر انجام
ہو جائے
شمائلہ خان
Wahhh
ReplyDelete