Translate

Revolutionary

 غلام سوچ کے 

باغی کیا بنیں گے 

باغی نہ بنے تو 

انقلابی کیا بنیں گے

گھر چلتے ہیں جن کے

آئی ایم ایف کی ایڈ سے

ایسے کم ظرف 

جہادی کیا بنیں گے

No comments:

Post a Comment

Forms of life

   زندگی کے روپ کتنے، ہر گھڑی بدلتے رہے کبھی ہنستے پھول جیسے، کبھی آنسو ڈھلتے رہے کبھی دھوپ کی شدتوں میں جلایا ہمیں وقت نے کبھی چھاؤں بن کے ...

Contact Form

Name

Email *

Message *