Translate

The End

 یہ سلسلہ بھی تمام 

ہوا چاہتا ہے 

یہ قافلہ لبِ بام 

ہوا چاہتا ہے 

کریں اب وداع

کہ وقتِ رخصت 

ہوا چاہتا ہے

درد کو کہہ دو

ٹہرو کی اب

قصہ تمام 

ہوا چاہتا ہے

3 comments:

Forms of life

   زندگی کے روپ کتنے، ہر گھڑی بدلتے رہے کبھی ہنستے پھول جیسے، کبھی آنسو ڈھلتے رہے کبھی دھوپ کی شدتوں میں جلایا ہمیں وقت نے کبھی چھاؤں بن کے ...

Contact Form

Name

Email *

Message *