بیری کا پیڑ
========
تھا
وہ قریب
گھنا ، تناور
ڈالیاں تھیں اس کی
بڑا سایہ دار ،
مگر !!!!
پھر ایک دن،
اس پر اک
قیامت ٹوٹ پڑی
راستے سے گزرتے
ہوئے دیکھا تو
میری نگاہ جیسے
اس پر ہی ٹہر گئی
میرا دل بوجھل
ہوگیا، اور آنکھیں
آنسوؤں سے بھری
مجھے شدید ترین
غصہ آرہا تھا
انہوں نے
اس بے چارے
کو کاٹ ڈالا تھا
اس کا قصور !!!
دھوپ میں وہ
تن کر کھڑا تھا
اتنی جھلسا دینے
والی گرمی میں
سائبان بنا !!!
کھڑا تھا وہ
یہی خطا تھی
کہ اس کی ٹہنیاں
محافظ بنکر
زیادہ ہی جھک
آئیں تھیں نا
بس !!!!
ٹوٹ پڑے اور
کاٹ ڈالا اسے
ظالموں نے
بے چارہ محافظ
وہ ! بیری کا پیڑ
شمائلہ خان
No comments:
Post a Comment