دو پنچھی!!!
خالی خالی
بغیر پتوں کی
ٹہنیوں پر بیٹھے
دو باقی رہ
جانے والے پتوں
سے ، باتیں کرتے
کہہ رہے تھے
بڑی کالی سیاہ
رات ہے یہ
اور اس پر
یہ ویرانی ہے
مگر چاند کو
دیکھو پورا ہے
بادل سے ڈھکا
پر !!!!!
روشنی اس کی
جھانک جھانک کر
رات کی سیاہی کو
چیرتی ہوئی ؛؛!!
اپنے ہونے کا
احساس دلاتی ہے
تم بھی دونوں
اس شجر کی
ڈھارس ہو !!!
خالی ڈالیوں
کی تم امید ہو
ہم دو پنچھی
ان ڈالیوں پر
بیٹھ کر
تمہیں اوڑھ
لیتے ہیں ،!!!
اور سب تو
پت جھڑ
نے اجاڑ دیئے
مگر !!!!!!
ہمارا تحفظ
اور شجر
کا احساس
ڈالیوں کی
امید بنے ہو
تم ؛؛؛
پت جھڑ
میں بھی
نئی صبح
کی کرن ہو
اک خوش گوار
لمحہ ہو
جینے کی تمنا
زندگی کی رمق
ہو تم !!!!!!
No comments:
Post a Comment