دکھ کی چاندنی**
دکھ کی چاندنی راتوں میں،
تنہائی کے سائے گہرے ہیں۔
ہر سانس میں ایک کہانی چھپی ہے،
ہر آنسو میں ایک زخم بھرا ہے۔
یہ دکھ کا سفر ہے، لمبا اور اداس،
ہر قدم پر خامشی کا ہجوم ہے۔
مگر ان گہرائیوں میں چھپا ہے،
ایک امید کا دیا، جو روشن ہے۔
دکھ ہمیں سکھاتا ہے،
کہ ہر رات کے بعد ایک صبح آتی ہے۔
ہر زخم کے نیچے،
ایک نئی طاقت چھپی ہوتی ہے۔
تو آج اگر دکھ کا سایہ ہے،
تو کل خوشیوں کی بارش ہوگی۔
یہی تو ہے زندگی کا سبق،
کہ ہر دکھ کے بعد، ایک نئی روشنی ہوگی۔
No comments:
Post a Comment