یادوں کی زنجیر
ہر ایک لمحہ، ایک کہانی بن گئی۔
کبھی مسکراہٹیں، کبھی آنسوؤں کے موتی،
یہ زنجیر، زمانے کی ریت میں گھری ہوئی۔
پرانی یادیں، نئے خوابوں کے سائے،
دل کے دَر و دیوار پہ نقش ہیں بنے ہوئے۔
کھو جاؤں تو ان میں، پا لوں تو خوشبو،
یہ زنجیر، میرے وجود کی ہر سانس میں بسی ہوئی۔
کبھی دوری کے اندھیرے، کبھی وصل کی روشنی،
یہ زنجیر، ہر رنگ میں ڈوبی ہوئی۔
یادوں کی زنجیر، ٹوٹے نہ کبھی،
یہ میرے دل کی دھڑکنوں سے جُڑی ہوئی۔
No comments:
Post a Comment