**عید کی خوشیاں اور تیری یاد**
چمکتی صبح ہے، عید کا دن سہانا،
مگر دل ہے اداس، ترا انتظار ہے۔
ہر طرف رنگ ہی رنگ، خوشیوں کی رونقیں،
مگر میری نگاہوں میں اک تیرا خیال ہے۔
کھلے ہیں سب کے لب پہ مسکراہٹیں پیاری،
مگر میری زباں پہ ترا ہی نام ہے۔
دنیا بھر کی خوشیاں ملیں مجھ کو آج بھی،
مگر وہ چاند سا چہرہ، وہ بات یاد ہے۔
عید کی رات بھی آئی، چاند بھی نکلا،
مگر تیرے بغیر یہ دن بھی اجنبی ہے۔
ہر طرف اُجڑی خوشی، ہر سُو ویرانی،
کیونکہ عید کی خوشی میں تُو ہی شامل نہیں۔
کاش ہوتا تُو یہاں، بانٹتا میری مٹھائی،
پھر تو جیتے جی عید ہو جاتی میری۔
**— ختم شد —**
امید ہے یہ نظم آپ کو پسند آئےگی!
عید مبارک!
No comments:
Post a Comment