Translate

Voice against injustice

 باغی ہوں، بغاوت پہ اتر آیا ہوں  

یہ دل ہے کہ چٹانوں سے ٹکرانے آیا ہوں  


نہ ڈر ہے زنجیروں کا، نہ خوفِ جہنم  

حق بات کہنے پہ اب تو عیاں ہونے آیا ہوں  


یہ راستہ دشوار ہے، مگر اپنا ہے  

ہر موڑ پہ ظلمت کو للکارنے آیا ہوں  


کٹے گی گردن، مگر جھکے گا نہ سر  

یہ عہدِ وفا ہے، میں نبھانے آیا ہوں  


خدا کے لیے اب نہیں ڈوبنے والا  

سمندر سے اپنا سفینہ نکالنے آیا ہوں  


یہ آگ جو سینے میں ہے، بجھنے نہیں دیں گے  

ہر شعلہ بنا کر چراغ لےآیا ہوں  


"باغی" ہوں، مگر یہ بغاوت ہے انصاف کی  

ہر  ظلم  کے خلاف  صدادے آیا ہوں۔


شمائلہ خان

No comments:

Post a Comment

Forms of life

   زندگی کے روپ کتنے، ہر گھڑی بدلتے رہے کبھی ہنستے پھول جیسے، کبھی آنسو ڈھلتے رہے کبھی دھوپ کی شدتوں میں جلایا ہمیں وقت نے کبھی چھاؤں بن کے ...

Contact Form

Name

Email *

Message *