صنم تیرے قدموں پہ جھکا ہے دِل ميرا،
تُو ہے ميری رات کی آخری تارہِ صبح۔
تيری آنکھوں میں سمندر کی گہرائی ہے،
مگر تُو خود ہے کنارہِ صبح۔
ہر نظر تجھ کو پُکارے، ہر سانس تيرا نام لے،
صنم، تُو ہے ميرے وجود کی سب سے پيارى روح۔
تُو جو مسکرا دے تو پھُول کھِل جاتے ہیں راہوں میں،
ورنہ ہر طرف ہے اندھيرا، ہر طرف ہے سناٹا۔
صنم، ميری محبت ہے تيرے قدموں کی دھول،
مجھے بس اتنا سہارا دے کے جانے دے۔
No comments:
Post a Comment