استاد کی باتوں میں جو نور ہوتا ہے
شاگرد کے دل میں وہ اُتر جاتا ہے
سکھائے جو علم کی راہیں وہ رہنما ہوتا ہے
شاگرد کی منزل کا وہ دریا ہوتا ہے
جو بُنت گِرانی کی استاد نے بکھیری
شاگرد کے ہاتھوں میں وہ پھول کھِل جاتی ہے
کہتا ہے یہ دنیا، یہ زمانہ سبھی
استاد کی محنت کبھی مَیں نہ بُھلاتا ہے
No comments:
Post a Comment