Translate

The taste of death is the last breath.

 **: کل نفس ذائقۃ الموت**  


ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے،  

یہ حقیقت ہے، یہ اٹل سچائی ہے۔  


بادشاہ ہو یا فقیر گوشہ نشیں،  

سب کو اس دہلیز پہ جھکنا ہے۔  


مال و دولت، جاہ و منصب سب فانی،  

اک دن خالی ہاتھ لوٹنا ہے۔  


یہ سفر تنہا بھی طے کرنا ہے،  

کوئی ساتھی، کوئی رفیق نہیں۔  


تو بھی اس راہ پہ چلنے والا ہے،  

کیا تیاری تیرے پاس ہے؟  


(مضمون: قرآن پاک کی آیت **"کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَۃُ الْمَوْتِ"** [الأنبياء: 35] سے متاثر ہو کر لکھی گئی نظم)  


**تشریح:**  

اس نظم میں موت کی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ یہ ہر جاندار کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ دولت، طاقت، یا رتبہ کچھ بھی ہو، موت سے بچ نہیں سکتا۔ آخری بند میں سوالیہ انداز میں انسان کو اپنی تیاری پر غور کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔

No comments:

Post a Comment

Forms of life

   زندگی کے روپ کتنے، ہر گھڑی بدلتے رہے کبھی ہنستے پھول جیسے، کبھی آنسو ڈھلتے رہے کبھی دھوپ کی شدتوں میں جلایا ہمیں وقت نے کبھی چھاؤں بن کے ...

Contact Form

Name

Email *

Message *