نیند نہیں آتی
پلکوں پہ!!
رت جگے؛
سجے ہیں
کچھ یوں گزری رات:
**چراغِ دل** جلتا رہا،
**خوابوں کے پنچھی
اُڑتے رہے،
پر آنکھوں میں
سمٹے رہے۔
کتنی بار
گنے میں نے تارے،
پر ہر اک
چمک کر بجھتے گئے،
رات کے ہاتھ
لہرائے تو،
سایوں نے
مجھے گھیر لیا۔
اب تو صبح
کی لو آئے،
مگر آنکھیں
ہیں بھاری بھاری،
شاید نیند
بھی تھک گئی،
میری طرح
جگتی ہوئی!!