Translate

Can't sleep.

 نیند نہیں آتی  

پلکوں پہ!!  

رت جگے؛  

سجے ہیں  


کچھ یوں گزری رات: 

**چراغِ دل** جلتا رہا،  

**خوابوں کے پنچھی 

اُڑتے رہے،  

پر آنکھوں میں 

سمٹے رہے۔  

کتنی بار 

گنے میں نے تارے،  

پر ہر اک 

چمک کر بجھتے گئے،  

رات کے ہاتھ 

لہرائے تو،  

سایوں نے

مجھے گھیر لیا۔  

اب تو صبح 

کی لو آئے،  

مگر آنکھیں 

ہیں بھاری بھاری،  

شاید نیند  

بھی تھک گئی،  

میری طرح 

جگتی ہوئی!!  

You will lose me.

 **وہ مجھ کو کھونے سے نہیں ڈرتے**  


وہ مجھ کو کھونے سے نہیں ڈرتے،  

بے وفا ہیں، بے خبر ہیں، بے خبر ہیں۔  


میرا درد بھی نہیں سنتے،  

میرا پیار بھی نہیں مانتے،  

یہ دل جو ٹوٹا ہے، اس کی دھڑکن سے نہیں ڈرتے۔  


میں نے چاہا تھا جو ان کو،  

اپنی جان سے بھی پیار کیا،  

مگر وہ تو راہوں میں بھٹک گئے،  

میرے انتظار سے نہیں ڈرتے۔  


کبھی ملنے کو جی چاہے،  

کبھی یادوں میں گھر جلتا رہے،  

وہ میرے غم سے خوش ہیں،  

میرے اشکوں سے نہیں ڈرتے۔  


دنیا کہتی ہے چھوڑ دے ان کو،  

پر میں کیسے بھلا دوں؟  

وہ جانتے ہیں میری کمزوری،  

میرے ویران ہونے سے نہیں ڈرتے۔  


Life is a struggle.

 زندگی تیری اداؤں پہ بہت پیار آیا،  

کبھی طفل، کبھی خُردند کی صورت تجھ کو پایا۔  


چمن میں پھول سی مہکی تو، ہوا دل بہل گیا،  

رُت بدلی تو خزاں کے اندھیروں میں کھو گیا۔  


نظر آتی ہے جب تُو، گُھنگھرو سی چھنک اٹھتی ہے،  

مِرے خوابوں کی رُت پل میں بہاروں میں بدل جاتی ہے۔  


کبھی ننھی سی کلی، کبھی شگفتہ گُل ہوئی،  

تُو زمانے کی رَواں دھار میں ایک اَفسانہ ہوئی۔  


جو سہارا دیا تُو نے، وہ نہیں ملتا کہیں،  

تُو ہی اک عمر کا ساتھی، تُو ہی اک عمر کی راہیں۔  


"اے زندگی" تیری محبت بھی عجب رنگ لائی،  

کبھی دُکھ دے کے رُلا دیا، کبھی ہنسا کے بُھلا دیا۔

The Lamp of Karbala

نظم: کربلا کا چراغ

ریت کا صحرا، دھوپ کا عالم،
پھر بھی لب پر صبر کا پرچم۔
نیزے تنے، تلواریں چمکیں،
پھر بھی نہ بدلی حق کی قسم۔

حسینؑ وہ چراغ ہیں جو،
اندھیروں میں بھی جلتے ہیں۔
ظلمت کی دیوار گراتے،
حق کے نغمے کہتے ہیں۔

کربلا کی خاک پہ وہ،
سجدہ کر کے سو گئے۔
مگر قیامت تک کے سارے،
ظلم سے لڑنا سکھا گئے۔

اک چھوٹے بچے کی پیاس،
اک بھائی کی آخری آس،
ماں بہنوں کی چیخیں گونجیں،
پھر بھی نہ آیا دل میں ہراس۔

سچ کا پرچم تھام کے نکلے،
تلواروں سے جا ٹکرائے۔
دنیا کہتی ہے آج بھی،
حسینؑ نہ ہارے، 

جیت وہ لائے

Voice of rebellion

 **اندر کا آدمی**  

**(بغاوت کی آواز)**  


کھول دے یہ کھڑکی!  

شیشے پہ لگے ہیں جو غبار کے پردے  

اُڑا دے پھینک —  

*میرے اندر کا آدمی*  

**آگ اُگل رہا ہے!**  


یہ زنجیریں جو تُو نے  

خود ساختہ پہنا رکھی ہیں  

کُھنک سے نہیں، *دھماکے* سے ٹوٹتی ہیں!  

میں نے سنا ہے:  

*"خاموشی بھی گناہ ہوتی ہے جب ظلم سامنے ہو"*  

سو آج —  

**چپّی توڑ دوں گا!**  


کہتے ہو: *"رسمِ زمانہ ہے یہ سب"*؟  

کہتے ہو: *"سر جھکا کے گزارا کرو"*؟  

میری رگوں میں دوڑتی ہے  

**وہ آگ جو تاریخ کے ظالم کو جلا دیتی ہے** —  

میں نہیں مانتا!  

میں نہیں جھکتا!  


میرے سینے میں دبے ہوئے سوال  

اب *خنجر* بن گئے ہیں —  

اُٹھا کے دیکھ!  

ہر ایک کا نوکدار سرا  

**نظامِ جُفا کی آنکھ میں اترے گا!**  


دیکھ رہا ہوں میں:  

تمہارے خوشنما جھوٹ  

تمہارے سُپرے ہوئے زہر  

تمہارے *"مقدس"* بندھن!  

میرا اندر کا آدمی کہتا ہے:  

*"پجاریو! اپنے جھوٹے دیوتا توڑ دو —*  

**میں خود ہی اپنا خدا ہوں!"** 


شمائلہ خان

Forms of life

   زندگی کے روپ کتنے، ہر گھڑی بدلتے رہے کبھی ہنستے پھول جیسے، کبھی آنسو ڈھلتے رہے کبھی دھوپ کی شدتوں میں جلایا ہمیں وقت نے کبھی چھاؤں بن کے ...

Contact Form

Name

Email *

Message *