Translate

The Lamp of Karbala

نظم: کربلا کا چراغ

ریت کا صحرا، دھوپ کا عالم،
پھر بھی لب پر صبر کا پرچم۔
نیزے تنے، تلواریں چمکیں،
پھر بھی نہ بدلی حق کی قسم۔

حسینؑ وہ چراغ ہیں جو،
اندھیروں میں بھی جلتے ہیں۔
ظلمت کی دیوار گراتے،
حق کے نغمے کہتے ہیں۔

کربلا کی خاک پہ وہ،
سجدہ کر کے سو گئے۔
مگر قیامت تک کے سارے،
ظلم سے لڑنا سکھا گئے۔

اک چھوٹے بچے کی پیاس،
اک بھائی کی آخری آس،
ماں بہنوں کی چیخیں گونجیں،
پھر بھی نہ آیا دل میں ہراس۔

سچ کا پرچم تھام کے نکلے،
تلواروں سے جا ٹکرائے۔
دنیا کہتی ہے آج بھی،
حسینؑ نہ ہارے، 

جیت وہ لائے

No comments:

Post a Comment

Sahar e Yara

 اے شہر یاراں  الوداع  رخت سفر باندھا  اور چل پڑے  الوداع  تیرے ساتھ گزارے  ہوئے لمحات کو  الوداع  تمہارے لئے چھوڑے اپنے سب فسانے الوداع  جا...

Contact Form

Name

Email *

Message *