زندگی کے روپ کتنے، ہر گھڑی بدلتے رہے
کبھی ہنستے پھول جیسے، کبھی آنسو ڈھلتے رہے
کبھی دھوپ کی شدتوں میں جلایا ہمیں وقت نے
کبھی چھاؤں بن کے خوابوں کے نگر پلتے رہے
کبھی راہ میں کانٹے تھے، کبھی خوشبوؤں کا سفر
ہم مگر امید لے کر ہر قدم چلتے رہے
کبھی اپنوں کی محفل میں بھی تنہا ہم ہی تھے
کبھی اجنبی بھی آ کر زخم اپنے سلتے رہے
یہی درس دے گئی آخر ہمیں گردشِ حیات
جو بھی لمحے ملے ، شکر کرکےملتےرہے