میں جاگ رہی ہوں مگر
میرے خواب گئے مر
آنکھوں میں نمی ٹھہری ہے
دل میں ہے کوئی ڈر
یادوں کی ہوا چلی تو
دل ہو گیا پھر تر
چاند بھی اکیلا سا ہے
تارے ہیں بے اثر
لوگوں کی اس بستی میں
ہر شخص ہوا بے خبر
دل ڈھونڈے وہی چہرہ
جو چھوڑ گیا یہ گھر
میں جاگ رہی ہوں مگر
میرے خواب گئے مر
شمائلہ خان
No comments:
Post a Comment