راھ پہ نظریں ہیں
اک آہٹ سننے کو
سماعت بیتاب ہے
ہرسو یہ منادی ہے
فضا گنگناتی ہے
صبا اس کی
خوشبو لٸے
چلی آتی ہے
میرا یار میرا ہمدم
جن راستوں سے
گزر کر مجھ تک
پہنچے گا
اس کی آہٹ
مجھے وقت کی
نبضوں نے سناٸی ہیں
دھڑکن کے شور میں
سانسوں کی آواز میں
میں اس کو سنتی ہوں
میری جان آرھی ہے
ہر کلی مسکرا رہی ہے
فضا گیت گارہی ہے
صبا پیغام لارہی ہے
میری خالدہ !!
مجھ سے ملنے
آرہی ہے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
No comments:
Post a Comment