Translate

Kuch na tha khayal

 ناتھا کبھی خیال اپنا

رہا یہی اک سوال اپنا

کچھ کہہ پاتے ہم بھی

تھا  صرف یہی احتصال اپنا

وہ وعدے کئے خود سے

شاید کہ یہی تھازوال اپنا

بڑے جیدار ہیں ذرا دیکھئے 

آنکھ بھر کر مسکرانا کمال اپنا

سنا تھاآنسورسوا کرتا ہے 

 یونہی مزاج رہا خوشخصال اپنا

بڑا عجیب تصور ہے کچھ ایسا

کھل رہا ہے اب نامہ اعمال اپنا 

 

No comments:

Post a Comment

Forms of life

   زندگی کے روپ کتنے، ہر گھڑی بدلتے رہے کبھی ہنستے پھول جیسے، کبھی آنسو ڈھلتے رہے کبھی دھوپ کی شدتوں میں جلایا ہمیں وقت نے کبھی چھاؤں بن کے ...

Contact Form

Name

Email *

Message *