میرے بیٹے
میرے دلارے
میری آنکھوں کی ٹھنڈک
میری زندگی کی جوت
میری آس
میری امید
میرا وقار
میرا قرار
میری آن
میری شان
میرے دیٸے
میری لُو
میرے صبر کا اجر
سب کچھ تم سے جڑا ہے
مجھے بے آس ناکرنا
ورنہ! میں کبھی جڑ
نہیں پاٶنگی
تیرے پیدا ہونے پر
میں نے اپنے آنسو
پونچھ لٸے تھے
بڑا مان ھے مجھے
تجھ پر
تیری کامیابی سے
میرے بچے!
اک وقار سا محسوس
ہوتا ہے
ہر سو
تیری پہلی کلکاری سے اب تک
میرے اندر امیدوں کے بےشمار دیپ جلتے ہیں
بہت ناز ہے مجھے تجھ پر
سدا خوش رہو
میری عمر بھی تجھے لگ جاٸے
کوٸی غم کبھی نہ تیرے
قریب آٸے
ہر سو تیرا نام گونجے
سدا چمن ہمارا
پھولوں سے مہکے
No comments:
Post a Comment