Translate

Muskurahat

 مسکرانا تو جیسے

یاد ہی نہیں

اک ادا تھی کبھی

گنگنانے کی

اب تو بھول ہی گئے

اپنی ہر اک مسکان

ہر خواہش ہرارمان

اور یاد رہتا بھی 

تو کیسے

اک زمانہ ہوا

گنگنائے ہوئے

مسکرائے ہوئے

ان لبوں کی ہنسی

تو جیسے گم

ہوگئی کہیں

بھول گئے ہیں

لب کہ یہ

کبھی مسکراتے تھے

گنگناتے تھے

اب تو کوئی

دھن ہی یاد نہیں

جو گنگناتے

مسکراتے 

نا تو کوئی وجہ

ہے مسکرانے کی

اور نا کوئی وجہ

ہے گنگنانے کی

خاموشی کا ڈیرہ ہے

ویرانے کا پہرہ ہے


No comments:

Post a Comment

Forms of life

   زندگی کے روپ کتنے، ہر گھڑی بدلتے رہے کبھی ہنستے پھول جیسے، کبھی آنسو ڈھلتے رہے کبھی دھوپ کی شدتوں میں جلایا ہمیں وقت نے کبھی چھاؤں بن کے ...

Contact Form

Name

Email *

Message *