عمر بھر کی دولت گنوائے بیٹھا ہوں
یوں میں خود کو آزمائے بیٹھا ہوں
اک ذرا سا بھی تغافل نہ کیجئے
سب اپنے اسباب لٹائےبیٹھا ہوں
دیکھوجارہے ہیں سب ہی چھوڑے
اپنا آپ مٹی میں ملائے بیٹھا ہوں اک اک کر کے چل دیئے سب شرفاء موذی ہوں گلے سے لگائے بیٹھا ہوں کچھ کام نہ آئی کبھی ملنساری وحشی ہوں ٹھوکریں کھائے بیٹھا ہوں۔ غم بانٹنے کی بڑی لت تھی کبھی۔ اپنا ہی دل جلائے بیٹھا ہوں
Waaah g waaah
ReplyDelete