بنجر زمین پر پڑتی پھوار۔ اکھڑتی سانسوں کی آکسیجن۔ جیسے سوکھے بےجان پھول
کو کوئی چھو لے۔ جیسے ڈوبتے، بکھرتے
وجود کو سمیٹ لے جیسے سخت دھوپ میں
کوئی سائبان۔ خشک ہوتے ،حلق میں
پانی کے چند قطرے۔ تمہاری آواز مجھے کہیں
دور جاتے روشنی کے اس
بلب کی طرح ہے جو اندھیرا۔ ختم کرنے کی پوری کوشش۔ کرتا ہے۔ بڑی ڈھارس ہو تم۔ تم وہ سہارا ہو جو۔ پودا ٹوٹ جائے تو !!!! اسے کھڑا رکھنے کیلئے،۔ جو سہارا دیا جاتا ہے،۔ وہ ہو تم ٹھرٹھراتی سردیوں کی! دھوپ ہو۔ اندھیرے میں چمکتا جگنو ہو،گھپ اندھیرے میں۔ دوڑتی ٹرین کیلئے لالٹین ہو۔ اور!!!!!!!!!!!!!!! 🏝️ نخلستان ہو صحرا میں۔ 🛤️🛣️🌅🎑🌠🏖️
No comments:
Post a Comment