Translate

Dekha jo teer kha ky

 زخم کھا کر پشت پر

حیراں نہیں ہوں میں

کچھ ہاتھ تھے کہ

جن سے میں

نہیں بے خبر

مدت سے تھے 

وہ موقع کی تاک میں

ملتے ہی جھپٹ پڑے

مار آستین!!!!!!

پھسلا رہے تھےجسے

مہرہ بناکر وہ!!!!!

بساط کے پلٹتے ہی

منظر بدل دیا!!!

گرانے کی کوشش

میں خود گرتے گئے وہ

جو دیکھی نظر اٹھا کر

تو! اوپر پایا زمیں کو

فلک گرا تھا نیچے

کھلاڑی سمجھ رہے 

تھے وہ خود کو بڑا

ثابت ہوا ہے یہ کہ

ان سا اناڑی نہیں کوئی 

No comments:

Post a Comment

Forms of life

   زندگی کے روپ کتنے، ہر گھڑی بدلتے رہے کبھی ہنستے پھول جیسے، کبھی آنسو ڈھلتے رہے کبھی دھوپ کی شدتوں میں جلایا ہمیں وقت نے کبھی چھاؤں بن کے ...

Contact Form

Name

Email *

Message *