خود غرض کے سامنے
جنت کو جھکانا اس کی
توہین ہے ،سچائی کو
جھوٹ کے قدموں میں
جھکانا کہاں کی دانشمندی ہے۔ میلے قدموں کی آہٹ سے
تو کعبہ بھی ہل جاتا ہے در در کی ٹھوکریں کھانے سے کیا خاک
سمجھ میں آتا ہے۔
نگرنگر بھٹکا پر
پلے کچھ بھی پڑا نہیں،
کبھی لگتا ہے لفظ بندھ گئے ہیں ،
کہیں قید ہیں قفس
نگاہوں سے اوجھل ہے
مگر کنجی پاس پڑی ہے۔
اوجھل کو ڈھونڈ ڈھونڈ
نگاہ بوجھل ہے
تلاطم برپا موج کی
لہروں میں مگر!!!
اپنی آسودگی کے لئے
جنت کی توہین زیب نہیں دیتی،
اس سے بہتر کہ تشنہ رہا جائے۔
No comments:
Post a Comment