حوصلہ کی قوت ساتھ رکھتے ہیں جو اپنے
کھینچ لاتے ہیں منزل سامنے وہ اپنے
پرواہ ذرا بھی کرتے نہیں مخالفین کی
بڑھتے ہیں آگےسنگریزوں پر قدم رکھ وہ اپنے
ہمت جو جگہ سے پربت کو ہلانےکی وہ رکھتے
چیر دیتے ہیں سینۂ ساگر زورِ بازو وہ اپنے
سختیٔ ایام میں تپش دھوپ کی وہ جھلیتے شعلوں پر ہوکر سوار بناتے مسکن وہ اپنے
رکھتے ہیں کس کر تنابیں جو وقت کی بیڑہ پار تیرا لے ہی جاتے وہ اپنے
چیر کر دھرتی کا تن زورِ بازو اپنے نکال ہی لاتے ہیں نایاب گوہر وہ اپنے
No comments:
Post a Comment