Translate

Maa Aansoo Dard

 مائیں بڑی بےوقوف

ہوتی ہیں،بالکل جھلی

اولاد کی محبت میں اندھی

اتنی دیوانی کہ دنیا میں اولاد

کہ سوا کچھ نظر نہیں آتا ہے،

ہوش تو تب آتا ہے!!!!!!

جب ٹھوکر لگتی ہے،چوٹ لگتی

درد ملتا ہے ، تکلیف ہوتی ہے

پھر اپنا درد کسی سے کہہ بھی

نہیں پاتی ،

ناکسی کو سنا پاتی ہیں

بس یادوں کی دھول کی بھنور

میں جھانک جھانک کر آنسو بہاتی

رہتی ہیں،

اپنی جوانی،

اپنی طاقت،

اپنا وقت جن پر قربان کیا ہوتا ہے

 وہ سب ایک ایک کرکے اسکی قربانیوں کو 

اپنی بے حسی اور خود غرضی کے

 قدموں تلے روند دیتے ہیں 

بس ڈھیر سارے آنسو،

بیماریوں کی سوغات دامن میں باقی رہ جاتی ہے 


December

 دسمبر کی سرد

اور۔        

خشک تاریکی

دور تک پھیلی

یہ خاموشی

 ہاتھ میں سرد

ہوتی 

چائے کا کپ

تھامے،خالی نگاہوں 

سے سڑک کو 

تکتے تکتے

اداس پیڑوں کی شاخوں

کی آہیں محسوس

ہوتی ہیں۔   

یخ بستہ پھیلتی

سیاہی مجھے میرے

وجود میں اترتی 

اپنا احساس دلاتی!!!

میری سرد ہوتی

چائے بھی کرب 

سے اشارہ کررہی ہے

مجھے میرے اندر

اتارنے کو بیتاب

شاید!!!!!!!!!!

اندر بکھرا سناٹا

دکھتا ہے اسے

ملنا چاہتی ہے 

دور تک اندر کی

وحشت اور بیزاری سے

نگاہوں کا خالی پن

ڈال کر اس پر

انڈیل لیا خود میں

اس کا سرد وجود

بکھر گیا مجھ میں

اسی کیلئے تو!!!!!

بے چین تھی وہ

خالی نگاہوں سے

خالی کپ کو گھورتے

اور۔           

سڑک پر بکھرے 

اک طویل سناٹے

کو ملاتے ہوئے

پیڑوں کی اداس

اور خالی شاخوں

پر بکھری تنہائی

اور۔          

میرے اندر دور تک

پھیلی ،بکھری۔   

تنہائی کافی حد تک

ایک جیسی لگتی ہے

یہی سب میرے سنگی

چائے،گیلری،خاموش سڑک

پیڑوں کی اداس شاخیں

میرے ساتھی ، میرے بیلی 


Khamoshi

 خالی اور خاموش 

نگاہوں سے!!!

آسمان کو تکتے

اکثر ہیں ہم

جانے کب یہ خاموشی

کوئی اثر دکھادے!!

Gum shuda Lafz

 لفظ کھو گئے سارے

زبان پر جو تھے ہمارے

کاغذ پر تھے جو اتارے

کچھ تو دھواں بن اُڑے

نکلے جو سارے دھندلے۔                                               کچھ صفحات پر بکھیرے۔                                   پڑے وہ سب چھوڑنے                                            گم ہوئے  سب استعارے

لوٹے نہیں جو!!! نکلے

دے کر صدا جو پکارے

Forms of life

   زندگی کے روپ کتنے، ہر گھڑی بدلتے رہے کبھی ہنستے پھول جیسے، کبھی آنسو ڈھلتے رہے کبھی دھوپ کی شدتوں میں جلایا ہمیں وقت نے کبھی چھاؤں بن کے ...

Contact Form

Name

Email *

Message *