Translate

December

 دسمبر کی سرد

اور۔        

خشک تاریکی

دور تک پھیلی

یہ خاموشی

 ہاتھ میں سرد

ہوتی 

چائے کا کپ

تھامے،خالی نگاہوں 

سے سڑک کو 

تکتے تکتے

اداس پیڑوں کی شاخوں

کی آہیں محسوس

ہوتی ہیں۔   

یخ بستہ پھیلتی

سیاہی مجھے میرے

وجود میں اترتی 

اپنا احساس دلاتی!!!

میری سرد ہوتی

چائے بھی کرب 

سے اشارہ کررہی ہے

مجھے میرے اندر

اتارنے کو بیتاب

شاید!!!!!!!!!!

اندر بکھرا سناٹا

دکھتا ہے اسے

ملنا چاہتی ہے 

دور تک اندر کی

وحشت اور بیزاری سے

نگاہوں کا خالی پن

ڈال کر اس پر

انڈیل لیا خود میں

اس کا سرد وجود

بکھر گیا مجھ میں

اسی کیلئے تو!!!!!

بے چین تھی وہ

خالی نگاہوں سے

خالی کپ کو گھورتے

اور۔           

سڑک پر بکھرے 

اک طویل سناٹے

کو ملاتے ہوئے

پیڑوں کی اداس

اور خالی شاخوں

پر بکھری تنہائی

اور۔          

میرے اندر دور تک

پھیلی ،بکھری۔   

تنہائی کافی حد تک

ایک جیسی لگتی ہے

یہی سب میرے سنگی

چائے،گیلری،خاموش سڑک

پیڑوں کی اداس شاخیں

میرے ساتھی ، میرے بیلی 


4 comments:

Forms of life

   زندگی کے روپ کتنے، ہر گھڑی بدلتے رہے کبھی ہنستے پھول جیسے، کبھی آنسو ڈھلتے رہے کبھی دھوپ کی شدتوں میں جلایا ہمیں وقت نے کبھی چھاؤں بن کے ...

Contact Form

Name

Email *

Message *